کیا ہے Plea Of Alibi
فوجداری یا کریمنل لا کا اک پرنسپل ہے جس کے مطابق کیس ثابت کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے.
مطلب
کسی پر چوری کا الزام ہے تو عدالت میں پولیس یا مدعی پارٹی پر ذمہ داری عائد کرتی ہے وہ ثابت کریں شواہد کی روشنی میں کے فلاں شخص ہی چوری کا مجرم ہے.
اس ذمہ داری کو قانون کی زبان میں بار ثبوت
یا
Burden of Proof
کہا جاتا ہے.
چند ایک کیسز ایسے ہیں جس میں بار ثبوت ملزم پر ہوتا
ہے
مثال کے طور پر نیب قوانین کے مطابق اگر کس شخص کو کرپشن یا آمدن سے زائد آثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا جائے تو بار ثبوت ملزم پر ہوتا ہے
اسی طرح
Control of Narcotics substance Act 1997
کے مطابق اگر کسی ملزم سے منشیات برآمد ہوتی ہے
اس کے سامان سے یا اس کے گھر سے تب بھی یہی فرض کیا جائے گا کے بار ثبوت ملزم پر ہے وہ ثابت کرے کے منشیات اسکی نہیں ہے.
اوپر بیان کیے گئے قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے
اب آتے ہیں موضوع کی طرف
اگر کسی پر جھوٹی ایف آئی آر ہوگئ
جبکہ وہ شخص موقف اختیار کرے کے وہ جرم کی جگہ پر موجود ہی نہ تھا
ملزم کے اس موقف یا دفاع کو
Plea of Alibi
کہلاتا ہے.
Accused was not present at the place of offence committed.
قانون شہادت آڈر 1984 کا آرٹیکل
24
Plea of Alibi
سے متعلق ہے.
جو شخص موقع واردات یا جرم کی جگہ پر موجود نہ تھا ایف آئی ہوگئ اس پر اب کیا کرے؟
1
تو ایسے شخص/ملزم کو
چاہیے اگر وہ گرفتار نہیں ہوا تو متعلقہ عدالت سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 498 کے تحت
ضمانت قبل از گرفتاری کروائے
ضمانت قبل از گرفتاری کے وقت عدالت میں وہ تمام شواہد پیش کرے جس سے ثابت ہو وہ موقع جرم کی جگہ پر موجود نہ تھا
ضمانت کے موقع پر عدالت
Plea of Alibi
کو مدنظر رکھ سکتی ہے
2
اگر
وہ شخص گرفتار ہو چکا ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جا چکا ہے چالان جمع ہوچکا ہے
تو ملزم
ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دے.
3
اس کے ساتھ ہی عدالت میں
درخواست بریت دائر کرے
249A
کے تحت مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہے وہ ملزم کو ٹرائل کی کسی بھی سٹیج پر رہا کرسکتی ہے
4
اگر مقدمہ سیشن کورٹ میں چل رہا ہے تو
265k
کے تحت سیشن کورٹ کو بریت کی درخواست دیں سیشن کورٹ اختیار حاصل ہے کے شواہد کی عدم موجودگی میں ملزم کو ٹرائل کی کسی بھی مرحلے میں بری کرسکتی .
یاد رہے جیسا کے اوپر بیان کیا
عام حالات میں مدعی/پولیس کا کام ہوتا ہے ملزم کو گناہگار ثابت کرے
جبکہ
Plea Of Alibi
میں بار ثبوت ملزم پر ہوتا ہے کہ وہ ثابت کرے کے وہ بے گناہ ہے.
جب عدالت میں ثابت ہو جائے کے آپ گناہ تھے عدالت نے آپکو بری کر دیا تو اس صورت میں
پولیس کو درخواست دیں یا عدالت میں درخواست دیں کے
آپ پر جھوٹی ایف آئی آر کروانے کے جرم میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 کے تحت پولیس اس شخص کے خلاف کارروائی کرے
اپنی قیمتی آراء سے ہمیں ضرور آگاہ کیجئے گا اور جس قانون کے متعلق آپ جاننا چاہیں تو آپ ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتاسکتے ہیں.ہم کوشش کریں گے اس پر لکھنے کی
مزید روز مرہ زندگی سے وابستہ قانون جاننے کے لیے وزٹ کریں
www.whatsaysthelaw.blogspot.com




Post a Comment
0 Comments