مرتے ہوئے شخص کے آخری بیان کی قانون کی نظر میں اہمیت کیا ہے؟

 نزع کے وقت اگر کوئی شخص بیان دے تو اس کو انگریزی میں 

Dying Declaration

 کہا جاتا ہے




.

کب 

Dying Declaration 

کو قانون کی نظر میں اہمیت ہوگی؟


قانون شہادت

 Law of Evidence

 کے آرٹیکل 46 سب رول 1 کے مطابق اگر مرنے والا شخص اپنی موت سے متعلق بتائے یا اس صورتحال کا ذکر کرے جسکی وجہ سے وہ مرنا والا ہے تو ایسے بیان کو قانون کی نظر میں اہمیت دی گئ ہے اور  اس بیان کو بطور شہادت عدالت پیش کیا  جاسکتا ہے

مثال کے طور پر

اک شخص کو ہسپتال لایا گیا جو  گولی یا خنجر سے زخمی تھا اب اپنے پاس موجود ڈاکٹر یا قریبی رشتہ دار یا جو بھی ادھر موجود ہو اس کو بتائے کے فلاں شخص نے مجھے گولی ماری یا زخمی کیا ہے تو اس بیان کو بطور شہادت اس شخص کے خلاف پیش کیا جائے گا جس کا اس نے نام لیا ہے

پولیس آڈر 1934 باب 25 رول 21 کے مطابق

اگر ممکن ہو مجسٹریٹ کو بلایا جائے

وہ مرتے ہوئے شخص کا بیان ریکارڈ کرے.

مجسٹریٹ کو پولیس بلائے گی.

اب اگر مجسٹریٹ موجود نہیں ہے تو میڈیکل آفیسر یعنی ڈاکٹر یا پولیس آفیس بھی بیان ریکارڈ کرسکتا ہے.

مرتے ہوئے شخص کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے دو گواہان جن کا تعلق مرتے ہوئے شخص نہ ہو ان کو گواہ بنا لیا جائے

تاکہ شہادت میں کسی قسم کا شک و شبہات پیدا نہ ہوں.

اک بات ذہن میں رہے مرتے ہوئے شخص کا بیان یا 

Dying declaration

 کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شخص بیان دے کر فوراً مر جائے جیسا کے فلموں میں ہوتا ہے ایسا نہیں ہے وہ شخص 5 گھنٹے 1 دن 2  دن بھی زندہ رہ سکتا ہے

زخمی ہونے کے بعد اس نے پہلے دن بیان دے دیا اب وہ 6 دن بعد مرا  تو یہ 

Dying declaration 

ہی کہلائے گا.

Dying declaration

مرتے ہوئے شخص کے بیان کو اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟

عام صورتحال میں گواہ یا کوئی پارٹی عدالت میں بیان دیتی ہے تو اس کے بیان پر جرح ہوتی ہے مخالف وکیل کی جانب سے لیکن 

Dying declaration 

میں ایسا نہیں ہوتا ہے پھر بھی اس مرتے ہوئے شخص کے بیان کو اہمیت دی جاتی ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں یہ 

presume 

یا مانا جاتا ہے کہ مرنے والے شخص کو کوئی لالچ نہیں رہتی دنیا سے لہذا وہ مرتے ہوئے سچ ہی بول رہا ہوگا

کیا مرتے ہوئے شخص کے بیان پر دوسرے شخص جس کا اس نے نام لیا اس کو سزا ہوجائے گی اس بیان پر؟

ایسا نہیں ہے. اس قانون کا مطلب ہے مرتے ہوئے شخص کے بیان کو عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے لیکن سزا دینے کے لیے مزید شواہد کی بھی ضرورت پڑے گی جو ثابت کریں کے اسی شخص نے مرنے والے شخص کو زخمی کیا تھا جسکی وجہ سے وہ مرا. 

کس کے بیان کو اہمیت نہیں دی جائے گی؟ 

یاد رہے اک پاگل شخص مرتے ہوئے بیان دے اس کو اہمیت نہیں دی جائے گی عدالت میں

نہیں ہوگی

مرتے ہوئے شخص زمین کی وصیت کی کسی کے حق میں یا کسی کو گفٹ ہبہ کر دی جائیداد کیا جائیداد منتقل ہو جائے گی اس بیان کی اہمیت ہوگی؟.

 نہیں ہوگی. 

قانون میں جائیداد منتقل کرنے کا طریقہ کار  موجود ہے.

اگر کسی نے مرتے ہوئے کہہ دیا یہ جائیداد اس شخص کی ہے تو یہ جائیداد منتقل نہ ہوگی نہ ہی اس بیان کی قانون میں  کوئی اہمیت ہے نہ ہی وہ شخص جس کے حق میں مرنے والے نے بیان دیا وہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کے زمین میری ہے وہ میرے نام کر کے گیا ہے

بس اس بیان کی ہی اہمیت ہے جس میں اس نے اپنی موت کی وجہ بتائی ہو.


لا گیٹ نوٹس ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سلیبس کے مطابق تمام سبجیکٹس کے حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں

0300 6471170





Post a Comment

0 Comments