مجموعہ ضابطہ دیوانی میں ہونے والی ترامیم کیا ہیں؟کیسے اب سالوں سال چلنے والے کیسز کا فیصلہ چند ماہ یا ایک سال میں ہو جائے گا؟

 ہمارے ہاں دیوانی مقدمات مثلاً لین دین کے کیسز زمین کے کیسز وغیرہ کو 

ضابطہ دیوانی یا

civil procedure code 1908

کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے.





جیسا کے آپکو معلوم ہے پاکستان میں موجود تقریباً اکثر قانون انگریز کے بنائے ہوئے اور اسی دور سے نافذالعمل ہیں.

اسی طرح ضابطہ دیوانی بھی انگریز دور میں برصغیر میں نافذ کیا گیا.

فوقتاً فوقتاً گورنمنٹ اس میں ترامیم کرتی رہی ہیں. تاکہ یہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں 

اسی سلسلے میں 

نومبر 2020 میں ضابطہ دیوانی میں کافی تبدیلیاں کی گئیں

جس کا مقصد عوام کو جلد از جلد انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے


 2020

میں ضابطہ دیوانی میں ہونے والی ترامیم مندرجہ ذیل ہیں


order 4

میں ترمیم کر کے عدالت کے دو سیٹ اپ بنا دیے گئے ہیں 


اک ایڈمنسٹریٹر جج 

دوسرا ٹرائل جج

ایڈمنسٹریٹر جج

جس کا کام ہوگا

ٹرائل سے پہلے کی کاروائی کو مکمل کرنا مثلاً دعوی جواب دعویٰ سمن طلبی گواہان 

اعتراضات وغیرہ. 

پری ٹرائل کاروائی کر کے

گواہان کو پاپند کر کے 

ایڈمنسٹریٹر جج کیس کو

ٹرائل جج 

کے پاس بھجوا دے گا

ٹرائل جج 

شہادت ریکارڈ اور بحث سننے کے بعد فیصلہ دے دے گا


order 4, 5

میں ترمیم کر کے یہ قانون شامل کیا گیا جب بھی مدعا عالیہ کو سمن بھجوایا جائے گا تو اس کے ساتھ دعویٰ کی کاپی ہوگی

اس کے ساتھ. 

سمن کا پروسیجر تیز کرنے کے لیے 

سمن تعمیل کنندہ کے ساتھ ہی سمن بذریعہ رجسٹری مدعا عالیہ کو بھجوایا جائے گا 

اس کے ساتھ جدید آلات کے ذریعے بھی مدعا عالیہ کو آگاہ کیا جاسکتا 

مثلاً موبائل ای میل وٹس ایپ وغیرہ 


order 7 rule 11


کی درخواست الگ سے نہیں دی جائے گی 

بلکہ جواب دعویٰ کے ساتھ ہی دی جائے گی. 

اس کے علاوہ دیگر درخواستیں جب بھی دی جائیں گی تو کاروائی چلتی رہے گی کیس نہیں روکے گا. 

اس ترمیم سے پہلے کیس کو لٹکانے کے لیے پارٹی درخواست پہ درخواست دیے رکھتی تھی اس سے ہوتا یہ تھا کیس روک جاتا تھا 

عدالت درخواست کا فیصلہ کرنے میں لگ جاتی تھی. 

اس ترمیم کے بعد ایسا نہیں ہوگا

کیس نہیں روکے گا. 


order 7, 8

  میں ترمیم کرکے

مدعی اور مدعا عالیہ کو پاپند کیا گیا کے وہ دعویٰ جواب دعویٰ  کے ہمراہ فہرست قانونی وارثان شامل کریں گے.

مثلاً مدعی مدعا عالیہ اپنے بیٹے بیٹی بہن بھائی یا جو بھی قانونی وارث ہو گا اس کا نام لکھنا ہوگا


order 7 rule 26(4)


میں ترمیم کر کے مدعا عالیہ کو پاپند کیا گیا وہ مقرر وقت پر جواب دعویٰ داخل کرے. 

اگر جواب جمع نہیں کروایا 

تو معقول وجہ بیان کرنا ہوگی. 

عدالت 30 دن سے زائد کسی صورت زیادہ ٹائم نہیں دے گی


 

اور اہم ترمیم

order 21

میں کی گئ

Execution of decree

یا ڈگری اجراء میں. 


جس کے مطابق اگر کسی کے حق میں فیصلہ ہوگیا ہے تو

اس فیصلے پر عملدرآمد اگلے دن صرف اک درخواست سے ہی شروع ہو جائے گا.

اس ترمیم سے پہلے عدالتی حکم پر عمل کروانے کے لیے نئے سرے سے دعویٰ سمن بھجنے پڑتے تھے مدعا عالیہ کو

جس میں کئ مہینے لگ جاتے تھے.


یہ چند اہم ترامیم تھی جس کی بدولت اب انصاف حاصل کرنے کے لیے برسوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا


اپنی قیمتی آراء سے ہمیں ضرور آگاہ کیجئے گا اور جس قانون کے متعلق آپ جاننا چاہیں تو آپ ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتاسکتے ہیں.ہم کوشش کریں گے اس پر لکھنے کی

مزید روز مرہ زندگی سے وابستہ قانون جاننے کے لیے وزٹ کریں 

www.whatsaysthelaw.blogspot.com





Post a Comment

0 Comments