نادرا سے جاری شدہ شادی/میرج سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کیا جائے؟

 نکاح کرنا اک شرعی عمل ہے

اور اس کو رجسٹرڈ کروانا اک قانونی عمل ہے.

پرانے وقتوں میں زبانی کلامی نکاح گواہان کی موجودگی میں ہوتا تھا.

آج بھی زبانی کلامی نکاح ہو جاتا ہے

لیکن اس کو رجسٹرڈ کروانا لازمی ہے.

Muslim Family law ordinance 1961

کے سیکشن 5

 سب سیکشن 3

کے مطابق اگر کوئی شخص نکاح رجسٹرار کے بغیر نکاح کرتا ہے

تو اس صورت میں فوراً مطلقہ یونین کونسل کو بتائے گا اپنے نکاح کے بارے میں. 

اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کو 3 مہینے تک قید یا جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے 


نکاح نامہ کو پر کرنا

اس کو رجسٹرڈ کروانا

درحقیقت میاں بیوی کے حقوق کو تحفظ دینا مقصود ہے.


اک بات یاد رہے 

نکاح خواں مولوی ہو یہ ضروری نہیں 

ضلعی انتظامیہ کسی بھی شخص کو نکاح رجسٹرڈ جاری کرسکتی ہے

اور وہ شخص جس کو نکاح رجسرڈ جاری ہوا ہے

وہ شخص بطور نکاح خواں نکاح کروا سکتا ہے





نکاح ہوگیا اب سرٹیفکیٹ کیسے حاصل کیا جائے ؟


نکاح ہونے کے بعد آپ نکاح خواں سے نکاح کی کاپی لیں گے جس پر اسکی اسٹیمپ وغیرہ لگی ہوگی

وہ نکاح کی کاپی لینے کے بعد مطلقہ یونین کونسل جائیں

1

نکاح نامے کی کاپی لیکر

2

میاں بیوی کے شناختی کارڈ کی کاپی

3

انکے والدین کے شناختی کی کاپی(ضرورت پڑنے پر مانگ سکتے ہیں)

یہ تمام چیزیں جاکر مطلقہ یونین کونسل میں جمع کروا دیں


عام حالات میں 3 دن کے اندر میرج سرٹیفکیٹ بن کر آجاتا ہے


اسکی فیس؟


میرج سرٹیفکیٹ کی فیس 300 روپے ہے جو مطلقہ یونین کونسل میں جمع کروائی جاتی ہے

میرج سرٹیفکیٹ کیوں ضروری ہے؟ 

 میرج سرٹیفکیٹ اک گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ڈاکومنٹ ہے جو شادی شدہ افراد کے مختلف جگہوں پر کام آتا ہے بیرون ملک سفر کرنا ہو یا کوئی ملازمت کرنی ہو وہاں  پوچھا جاتا ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں کہ نہیں بطور ثبوت آپ سے میرج سرٹیفکیٹ مانگا جاتا ہے

میرج سرٹیفکیٹ کے ذریعے گورنمنٹ اپنے ریکارڈ مرتب کرتی ہے یاد رہے یونین کونسل سے جاری ہونے والا سرٹیفکیٹ درحقیقت نادرا کی طرف سے جاری ہوتا ہے اس کے علاوہ مختلف فیملی کیسز میں میرج سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑتی ہے 

اک بات اور یاد رکھیں پنجاب میں نکاح کے وقت لڑکے کی عمر 18 سال اور لڑکی کی عمر 16 سال ہونا لازمی ہے

سندھ میں لڑکا لڑکی دونوں 18 سال کے ہونا لازمی ہے

اگر کوئی شخص نابالغ کا نکاح کرواتا ہے تو یہ تعزیرات پاکستان کے تحت سنگین جرم ہے

اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے تو یہ ریپ کے زمرے میں آئے گا جس کے تحت تمام لوگ نکاح کروانے والے نکاح خواں تک کو قید ہوسکتی ہے


اپنی قیمتی آراء سے ہمیں ضرور آگاہ کیجئے گا اور جس قانون کے متعلق آپ جاننا چاہیں تو آپ ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتاسکتے ہیں.ہم کوشش کریں گے اس پر لکھنے کی

مزید روز مرہ زندگی سے وابستہ قانون جاننے کے لیے وزٹ کریں 

www.whatsaysthelaw.blogspot.com





Post a Comment

0 Comments