آئین میں ترمیم کیسے کی جاتی ہے ترمیم اور آرڈیننس میں کیا فرق ہے؟

 سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں آئین میں ترمیم کیسے کی جاتی ہے

آئین میں ترمیم کرنے کا مطلب ہے 

کسی نئی چیز کو آئین میں شامل کرنا یا ختم کرنا 


جیسا کے آپ سب جانتے ہوں گے کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے مثلاً ملک میں نظام حکومت کیا ہوگا

صدر وزیراعظم کو کیسے چنا جائے گا.

ملک میں ادارے کیسے کام کریں گے.

ملک کی پالیسی کیا ہوگی.

غرض کے تمام باتیں جو کسی ملک کی سمت کا تعین کریں ایسے قوانین کے مجموعہ کو آئین کہتے ہیں

انگریزی میں اس کو 

  constitution

کہتے ہیں.

اسی طرح پاکستان میں موجود آئین 1973 میں بنایا گیا

اس سے پہلے بھی آئین بنتے بگڑتے رپے.

لیکن اب پاکستان میں 1973 کا آئین نافذالعمل ہے.

آئین پاکستان کے آرٹیکل 239  کے مطابق

آئین میں ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت چاہیے ہوتی ہے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کی





جیسا  کے

اس وقت قومی اسمبلی کے ممبران کی تعداد ہے

اور سینٹ کی ہے

اب آئین میں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی کے ضرورت ہوگی

اور سینٹ کے کی ممبران کی ضرورت ہوگی.

اب تک 1973 کے آئین پاکستان میں 27 ترمیم کی گئی ہیں

آخری ترمیم میں فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیا گیا.

عام قانون سازی اور آئینی ترمیم میں کیا فرق ہوتا ہے؟

جیسا کے اوپر بیان کیا گیا آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے

جبکہ عام قانون سازی میں

سادہ اکثریت کی بنا پر بھی کوئی قانون پاس کیا جاسکتا ہے.

سادہ اکثریت سے مراد 51 فیصد ووٹوں سے کسی بھی بل کو منظور کیا جاسکتا ہے.

لیکن اک بات یاد رہے عام قانون سازی میں کوئی بھی ایسا قانون پاس نہیں کیا جائے گا جو آئین پاکستان کے متصادم ہو اگر پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون بناتی ہے جو آئین کے خلاف ہو تو اس کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے.

صدارتی آرڈیننس کیا ہوتا ہے؟

صدارتی آرڈیننس اک خاص اختیار ہے جو صدر کو آئین پاکستان نے دیا ہے

صدر بغیر پارلیمنٹ کی منظوری کے کوئی بھی آرڈیننس جاری کرسکتا ہے.

عموماً صدر ان حالات میں صدارتی آرڈیننس جاری کرتا ہے جہاں قانون سازی کی فوراً ضرورت ہو آور پارلیمنٹ کا اجلاس بھی نہ ہو رہا ہو.

صدارتی آرڈیننس 6 ماہ تک نافذ العمل رہتا ہے 6 ماہ بعد یہ خودبخود ختم ہو جاتا ہے.

ہاں اگر گورنمنٹ پارلیمنٹ سے اس کو پاس کروا کر قانون بنوا دے تو یہ نافذالعمل رہے جب تک اس کو پارلیمنٹ سے ہی ختم نہ کروا دیا جائے.

ابھی حال ہی میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سینٹ الیکشن کی ووٹنگ کو اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کا آرڈیننس جاری کیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو ختم کردیا

کیونکہ صدر کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ آئین پاکستان کے خلاف کوئی قانون بنائے.

صدارتی آرڈیننس کو آئین پاکستان کا آرٹیکل 89 ڈیل کرتا ہے



اپنی قیمتی آراء سے ہمیں ضرور آگاہ کیجئے گا اور جس قانون کے متعلق آپ جاننا چاہیں تو آپ ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتاسکتے ہیں.ہم کوشش کریں گے اس پر لکھنے کی

مزید روز مرہ زندگی سے وابستہ قانون جاننے کے لیے وزٹ کریں 

www.whatsaysthelaw.blogspot.com






Post a Comment

0 Comments