زیر حراست ملزم کے آئینی و قانونی حق

معزز قارئین اک بات کا فرق پہلے جان لیں

ملزم اور مجرم میں بہت فرق ہے.


ملزم اس شخص کو کہتے ہیں جس پر الزام ہو. 

کسی پر کوئی الزام لگ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں اسی نے جرم کیا ہے

اسی طرح 

کسی شخص پر اہف آئی آر ہو جائے

تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر جرم ثابت ہو چکا ہے.


جبکہ مجرم قانون کی نظر میں وہ شخص ہوتا ہے جس کا باقاعدہ عدالت ٹرائل چلا ہو اور عدالت نے اس کو سزا دے دی ہو یہ سزا جرمانے قید کی صورت میں ہوسکتی ہے.


یقیناً اب آپ فرق جان چکے ہوں گے ملزم اور مجرم میں کیا فرق ہے





اب آتے ہیں پاکستانی قانون میں موجود زیر حراست ملزم کے حقوق 


1

گرفتار کرنے کے بعد ملزم کو بتایا جائے گا اس کو کیوں گرفتار کیا ہے کیا الزامات ہیں اس پر


2

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 61 کے تحت پولیس ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرے گی.

بعض اوقات پولیس ملزم کو گرفتار پہلے کر لیتی ہے لیکن اسکی پولیس زبان میں بندی نہیں ڈالتی مطلب گرفتاری ظاہر نہیں کرتی جو کے سراسر خلاف قانون ہے.

اگر پولیس کسی کو بے جا قید میں رکھتی ہے تو متاثرہ فریق یا اس کے لواحقین Habeas corpus کی رٹ سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ میں دائر کر سکتے ہیں

3

گرفتار ملزم کے دوست لواحقین ملزم کو بستر اور کھانا فراہم کرسکتے ہیں.

پولیس اس کا انداج پولیس رجسٹرڈ میں کرے گی

4

پولیس ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اس کو سہولت فراہم کرے گی کے وہ اپنے لواحقین عزیز کو بتا سکے اپنی حراست کے بارے میں

5

پاکستانی آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق 

ملزم کو اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت ہوگی اس کے لیے پولیس ملزم کو الگ کمرہ فراہم کیا جائے گا

7

آئین پاکستان کے آرٹیکل 11 کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل مہیا کیا جائے گا جس میں وہ خود کا دفاع کر سکے بغیر کسی ڈر خوف کے

8

ملزم پر دوران تفتیش کسی قسم کا تشدد نہیں کیا جائے گا


9

پاکستانی آئین کے مطابق کسی بھی ملزم کو مجبور نہیں کیا جائے گا کے وہ اپنے خلاف گواہی دے

اس لئے قانون کی نظر میں زیر حراست ملزم کے اعتراف جرم کی کوئی حیثیت نہیں 


8

ملزم کے فیملی ممبرز دوست احباب حراساں نہیں کیا جائے گا

9

کسی بھی ملزم کو اک جرم کے بدلے دو بار سزا نہیں ملے گی

بالفرض اک شخص اک جرم کی سزا کاٹ چکا ہے اب اس کو دوبارہ اسی جرم میں گرفتار یا سزا نہیں دی جاسکتی.

اس اصول کو

Principle of Double Jeopardy

کہہ جاتا ہے


10

اگر کسی عورت کو گرفتار کرنا مقصود ہو تو لیڈی پولیس اہلکار کی موجودگی میں گرفتار کیا جائے گا


پولیس کو گرفتار کرنے کے بعد تھانے میں نہیں رکھا جائے گا بلکہ اس کو خواتین کی جیل منتقل کیا جائے گا.

تفتیشی آفیسر لیڈی پولیس یا اس عورت کی رشتہ دار کی موجودگی میں عورت سے تفتیش کرے گا



عورت کی گرفتاری کی اطلاع متعلقہ پولیس افسر اپنے آفسر بالا کو بتائے گا


  یہ تھے قانونی و آئینی حقوق جو اک زیر حراست ملزم شخص کو حاصل ہوتے ہیں 

اگر ان میں سے کسی بھی قسم کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے تو متاثرہ شخص عدالت کو درخواست دے سکتا ہے اسی طرح ہم پہلے اپنے بلاگ میں بتا چکے ہیں جسمانی ریمانڈ کا مطلب ملزم سے تفتیش کرنا ہے اور یہ تفتیش مار پیٹ کے بغیر ہوتی ہے


اگر ثابت ہو جائے پولیس نے دوران ریمانڈ ملزم پر تشدد کیا ہے تو پولیس ملازمین کی نوکری تک جاسکتی ہے





Post a Comment

0 Comments