جبری نکاح شادی کروانا کسی لڑکی کی! پاکستانی قانون کیا کہتا ہے ؟

 کسی لڑکی کی زبردستی شادی کروانا

نکاح کرنا اک مذہبی فریضہ ہے.

نکاح کے لوازمات میں ہے لڑکا لڑکی کا عاقل ہونا بالغ ہونا حق مہر کا ہونا

اور

رضا مندی ہونا لازمی جز ہے.



اسلام میں شادی کے لیے لڑکا لڑکی کی اہمیت کو بہت اہمیت دی گئی ہے اس سلسلے میں 

ہمیں بخاری مسلم سے مختلف روایات بھی ملتی ہیں جن میں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں لڑکا لڑکی کی رضامندی کو اہمیت دی. 

جیسا کے حدیث میں ہے

خسنہ بنت خزام ؓنے نبی کریمﷺ سے شکایت کی کہ وہ اس جگہ شادی نہیں کرانا چاہتیں جہاں ان کے والد کرانا چاہ رہے ہیں۔نبی کریم ﷺنے شادی رکوا دی۔(بخاری)

حضرت زید بن ثابتؓ کی بیوی آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھیں۔‏نبی کریمﷺ نے انہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا۔


حضرت بریرہؓ اپنے شوہر حضرت مغیث کو پسند نہیں کرتی تھیں۔حضرت بریرہؓ کی اس سادہ سی درخواست پر کہ وہ اپنے شوہر مغیثؓ کو پسند نہیں کرتیں۔وہ شادی نہیں رکھنا چاہتیں۔یہ شادی ختم کرا دی گئی۔(بخاری)


اسلام میں شادی کے لئے لڑکا لڑکی کی رضامندی کو اس لیے بھی اہمیت دی کے بطور میاں بیوی اپنی پوری زندگی اک ساتھ گزانی ہے آگے بچے ہونگے اگر لڑکا لڑکی راضی نہیں ہے تو آگے مسئلے مسائل ہیدا ہوتے روز روز لڑائی جھگڑا اور اگر بچے ہیدا ہوگئے ہیں تو گھر کی لڑائی سے بچوں کی تربیت پر منفی اثرات ہوتے ہیں

اس لئے اسلام اور پاکستانی قانون کے مطابق لڑکی کی رضامندی لازمی ہے اور زبردستی لڑکی کی شادی کروانا جرم ہے. 

لڑکی کی زبردستی شادی کروانا کس قانون کے تحت جرم ہے؟

مجموعہ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 498 ب 

کے تخت اگر کوئی شخص کسی لڑکی کی زبردستی شادی کرواتا ہے تو تعزیرات پاکستان کے 

سیکشن 498 ب

 کے تحت اس شخص کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے اور سزا 3 سال سے کم کسی صورت نہ ہوگی

اگر

نابالغ ہے اور اسکی شادی کی جارہی ہے تو ہر وہ شخص جو شادی میں معاون ہے مطلب نابالغ بچی کے والدین یا رشتہ دار لڑکا لڑکے کے والدین رشتہ دار نکاح خواں غرض کوئی بھی شامل ہے نابالغ بچی کی شادی کروانے میں تو ان کو تعزیرات پاکستان کے اس سیکشن کے مطابق 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے

Child Marriage Restraint Act

کے تحت پنجاب میں لڑکے کی  شادی کے لیے 18 سال اور لڑکی کا 16 سال کا ہونا لازمی ہے

سندھ

میں لڑکا لڑکی دونوں کو 18 سال کا ہونا لازمی ہے.

لڑکی کی قرآن سے شادی کروانا؟

بدقسمتی سے پاکستان کے دیہی علاقوں میں آج بھی یہ رسم دیکھنے کو مل جاتی ہے جس میں گھر والے اپنی جائیداد کو بچانے کے لیے کے وہ انکی بیٹی کو نہ مل جائے کیونکہ اگر شادی ہوگئی تو بیٹی اس کا شوہر زمین میں سے وراثتی زمین مانگیں گے 

اس سے بچنے کے لئے قرآن سے شادی کرنا جیسا قبیح فعل سر انجام دیتے ہیں. 

اس فعل کی سرکوبی کے لیے قانون سازی کی گئ. 

تعزیرات پاکستان کے سیکشن 498c کے تحت جو کوئی کسی لڑکی کی قرآن سے شادی کروائے اس کام کو کرنے کے لیے معاونت کرے اس کو 7 سال تک قید کی سزا اور 5 لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے


مزید روز مرہ زندگی سے وابستہ قانون جاننے کے لیے وزٹ کریں 

www.whatsaysthelaw.blogspot.com

لا گیٹ نوٹس ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سلیبس کے مطابق تمام سبجیکٹس کے حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں

0300 6471170






Post a Comment

0 Comments