Law GAT Preparation :Constitution Of Pakistan Parliament 50-89



 Constitution of Pakistan Article 50 to 89


آرٹیکل 50 

کے مطابق

پاکستان دو ایوانی

Bicameral legislation

ادارے ہونگے

قومی اسمبلی اور سینٹ


آرٹیکل 51 

کے مطابق قومی اسمبلی کے  342 ارکان ہونگے غیر مسلم 

 reserve

 سیٹس کو ملا کر

اور ان میں سے ڈائریکٹ انتخابات کے ذریعے سلیکٹ ہونے والے ممبران کی تعداد 272 ہوگی.

ان کو جنرل سیٹ بھی کہتے ہیں

اقلیتی نمائندوں کو بھی اسی آرٹیکل کے ذریعے قومی اسمبلی کا ممبر بنانے کا کہا گیا ہے 

reserve seats

 پر

آزاد امیدوار الیکشن جیت کر کسی بھی سیاسی پارٹی کو جوائن کرے گا یہ بات بھی اسی آرٹیکل کے ذریعے بتائی گئی


آرٹیکل 53 

کے مطابق قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا جایا گا


اسی آرٹیکل میں سپیکر قومی اسمبلی کو اتارنے کا طریقہ کار بتایا گیا ہے.

اکثریت ممبران کے ووٹ سے سپیکر قومی اسمبلی کو اتارا جاسکتا ہے


آرٹیکل 54 

کے مطابق

صدر پارلیمنٹ سے فوقتاً فوقتاً خطاب کر سکتا ہے

اس کے علاوہ اہم بات ایک سال میں کم سے کم 3 دفعہ پارلیمنٹ کا سیشن لازمی ہوگا

اور سیشن کے درمیان 120 دن سے زائد کا وقفہ کسی صورت نہیں ہوگا

اگر 1 چوتھائی ممبران سپیکر کو پارلیمنٹ کا سیشن بلانے کی درخواست کریں تو سپیکر اجلاس بلانے کا پاپند


آرٹیکل 55 

 میں کورم کا بتایا گیا ہے

آپ نے اکثر سنا ہوگا اسمبلی کے اجلاس میں رکن کی کورم کی نشاندہی پر اسمبلی اجلاس ملتوی

تو یہ اس آرٹیکل کے مطابق ہوتا ہے اگر اسمبلی میں 1 چوتھائی سے کم ممبران ہوں تو کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے


آرٹیکل 58 

کے مطابق

صدر وزیراعظم کی ایڈوائز پر قومی اسمبلی کو تحلیل کرے گا


اگر اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چل رہی ہو تو صدر اسمبلی نہیں توڑے گا

اگر عدم اعتماد کی تحریک وزیراعظم کے خلاف کامیاب ہوگئ ہے لیکن اسمبلی میں کوئی دوسرا شخص بھی موجود نہ ہو جس کے پاس اکثریت ووٹ ہوں وزیر اعظم بننے کے لیے تو اس صورت میں بھی صدر خود سے اسمبلی کو توڑ دے گا


آرٹیکل 59 

سینٹ سے متعلق ہے

اس آرٹیکل میں جو یاد رکھنے والی بات ہے

وہ یہ ہے کہ سینیٹر کی معیاد 6 سال ہوتی ہے

اور سینٹ کبھی بھی ختم نہیں ہوتی مطلب جیسے کے قومی اسمبلی 5 سال بعد تحلیل ہو جاتی ہے ایسے سینٹ تحلیل نہیں ہوتی بلکہ اس کے ہر 3 سال بعد آدھے ممبران ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں اور خالی نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں


آرٹیکل 60 

کے مطابق سینٹ انتخابات کے بعد پہلے اجلاس میں سینٹ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوتا ہے ووٹنگ کے ذریعے

سپیکر کی معیاد 3 سال ہوتی ہے


آرٹیکل 62 

ممبر پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت کا ذکر کیا ہے

آپ نے الثر سنا ہوگا

آرٹیکل 62 1 ایف

اصل میں آرٹیکل 62 1 ایف

بتاتا ممبران پارلیمنٹ کو صادق و امین ایماندار ہونا چاہیے.


اسی آرٹیکل کو لیکر سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے تا حیات نااہل کیا.

آرٹیکل 63 اے 

کے مطابق 

پارلیمنٹ کا ممبر اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی جوائن کر لے

یا

وہ ممبر

عدم اعتماد کا ووٹ دے اپنی پارٹی کے وزیر اعظم کے خلاف

یا

Money bill

میں اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تو اس صورت میں بھی وہ نااہل ہو جائے الیکشن کمیشن کی طرف سے


آرٹیکل 66 

کے مطابق

ممبران پارلیمنٹ کو یہ استثناء حاصل ہے کہ ان کی پارلیمنٹ میں کی گئ بات یا دیے گئے ووٹ کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا


آرٹیکل 68 

کے مطابق

پارلیمنٹ میں ججز کے رویے پر ان کو نوکری سے برخاست کرنے سے متعلق کوئی بحث نہیں یوگی


آرٹیکل 69 

کے مطابق پارلیمنٹ کی کاروائی کو عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جائے گا


آرٹیکل،74،73،72،71 Money Bill 

کو ڈیل کرتا ہے اس آرٹیکل کے مطابق

money bill

قومی اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے

اس میں ٹیکس، سالانہ بجٹ اور دیگر فنانس معاملات اس Money bill  کے ذریعے ہی ڈیل کیے جاتے ہیں


 لا گیٹ سلیبس کے مطابق تمام سبجیکٹ کے نوٹس حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ میسج کریں

0300 6471170





 

Post a Comment

0 Comments