Law GAT Preparation:Constitution Of Pakistan

 Constitution of Pakistan Pakistan Article 175 to 230



آرٹیکل 175 

میں بتایا گیا سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہوگی

اور ہائی کورٹ صوبے کی سب سے بڑی عدالت ہوگی.


آرٹیکل175 اے

 میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز لگانے کا طریقہ کار بتایا گیا

سپریم کورٹ کے ججز لگانے کے لئے

اک کمیشن بنایا جائے گا

 جو چیف جسٹس سپریم کورٹ


4

 سینئر ترین سپریم کورٹ کے 

ججز


اک ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج 

چیف جسٹس

 nonminate

 کرے گا باہمی مشورے سے 


وفاقی وزیر قانون


اٹارنی جنرل آف پاکستان


سینئر سپریم کورٹ وکیل 

جس کو پاکستان بار کونسل 

نامزد کرے گی 2 سال کے لیے


 اسی طرح ہائی کورٹ جج کی

 Appointment

 کے لیے کمیشن بنایا جائے گا

جو چیف جسٹس ہائی کورٹ سینئر جج آف ہائی کورٹ

صوبائی وزیر قانون

اک سینئر وکیل ہائی کورٹ پر مشتمل ہوگا


یہ کمیشن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج nominate

 کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے

جو 4 قومی اسمبلی کے ارکان

سینٹ کے ارکان پر مشتمل ہوگی

یہ کمیٹی جج کی سلیکشن یا ریجیکش کی رپورٹ کمیشن کو بھیجے گی


آرٹیکل 179 

میں سپریم کورٹ جج کی ریٹائرمنٹ عمر 65 سال مقرر کی ہے


آرٹیکل 180

اگر چیف جسٹس کسی بھی وجہ سے موجود نہیں تو صدر پاکستان سپریم کورٹ کے ججز میں سے کو

 Acting

 chief Justice

 بنا سکتا ہے


آرٹیکل 184 میں 

سپریم کورٹ کی

 original jurisdictionsd

کو بتایا گیا ہے

اگر دو گورنمنٹ یعنی فیڈرل یا صوبائی گورنمنٹ کا کوئی مسئلہ ہو تو سپریم کورٹ اس کا فائنل فیصلہ کرے گی

اس کے علاوہ سپریم کورٹ عوامی مفاد عامہ اور بنیادی حقوق سے متعلق معاملات پر بھی سماعت کرسکتی ہے.

suo moto

کیسز اسی آرٹیکل کے ذریعے سپریم کورٹ سنتی ہے


آرٹیکل 189 میں

precedent

پرنسپل بیان ہوا ہے. جس میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ جات جو قانون سے متعلق ہوں تمام ماتحت عدالتوں پر

 binding authority 

رکھتے ہیں


آرٹیکل 190 

میں 

executive 

کو سپریم کورٹ کی مدد کرنے کا کہا گیا ہے



آرٹیکل 192 سے لیکر 203 تک 

ہائی کورٹ سے ڈیل کرتے ہیں


آرٹیکل 195 

کے تحت ہائی کورٹ جج کی ریٹائرمنٹ عمر 62 سال ہوگی

یاد رہے آرٹیکل 179 کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 65 سال ہے


آرٹیکل 199 

ہائی کورٹ کی jurisdiction

 کے متعلق ہے

جتنی بھی ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جاتی ہیں وہ اسی آرٹیکل کے تحت کی جاتی ہیں


آرٹیکل 201 

ہائی کورٹ کی ماتحت عدلیہ کو پاپند کرتا ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ ماننے پر.

یہ آرٹیکل بھی 

Precedent Principle سے متعلق ہی ہے


 آرٹیکل 203 اے لیکر آرٹیکل 

203j

تک

تک فیڈرل شریعت کورٹ سے متعلق ہے.

اس عدالت کے متعلق اتنا جان لیں یہ عدالت شرعی معاملات حدود کے معاملات سے متعلق

کیسز کو ڈیل کرتی ہے.

اس عدالت کے ججز میں علماء بھی شامل ہونگے 

اس عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں کی جاسکتی ہے


آرٹیکل 204

 contempt of court

توہینِ عدالت سے متعلق.

عدالت یا جج کے خلاف بات کرنے پر یا عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے پر توہینِ عدالت لگ سکتی ہے اور عدالت سزا بھی دے سکتی ہے


آرٹیکل 209

 Supreme judicial council

سے متعلق ہے

یہ کونسل چیف جسٹس آف پاکستان

دو سینئر ترین جج سپریم کورٹ

2 سینئر ترین جج ہائی کورٹ پر مشتمل ہوگی.


اس کونسل کا بنیادی مقصد اعلی عدلیہ پر 

Check and balance 

رکھنا ہے

ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف شکایت انکوائری اس کونسل کے ذریعے ہوگی.

یہ کونسل خود سے بھی انکوائری کرسکتی ہے

یا صدر بھی اس کونسل میں کسی جج کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے

جیسا کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدر عارف علوی نے ریفرنس بھیجا


آرٹیکل 212 

کے تحت ملک میں سرکاری ملازمین کے کیسز دیکھنے کے لیے سروس ٹربیونل بنائے گئے.

یاد رہے سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں ہوگی


آرٹیکل 213

 chief election commission 

کو ڈیل کرتا ہے


چیف الیکشن کمیشن کوئی ریٹائرڈ جج ہوگا یا ٹیکنوکریٹ ہوگا 68 سال سے زائد عمر نہ ہوگی

چیف الیکشن کمیشن کی تعیناتی وزیراعظم اور لیڈر آف اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے ہوگی

آرٹیکل 215 

کے مطابق اسکی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی


آرٹیکل 223 

کے مطابق کوئی شخص بیک وقت 2 اسمبلیوں کا ممبر نہیں بن سکتا

قومی اسمبلی کا ممبر بھی ہو اور صوبائی کا بھی یا دو صوبائی اسمبلی کا ہو


ہمارے ملک میں اکثر لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں غیر اسلامی قوانین ہیں جو کے سراسر غلط ہے

آئین پاکستان کے آرٹیکل 227 کے مطابق ملک پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں بنے گا جو دین اسلام کے خلاف ہو.


آرٹیکل 228 

اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق ہے

جس  کو

 Islamic ideology council 

بھی کہتے ہیں

یہ کونسل 8 سے لیکر 20 ممبران ہر مشتمل ہوگی جنکو دین کا فقہی مسائل کا علم ہو

ان ممبران کو صدر پاکستان منتخب کرے گا


آرٹیکل 230 

کے مطابق اسلامی کونسل پارلیمنٹ کی شرعی معاملات میں رہنمائی کرے گی



Criminal law ppc crpc

civil procedure code 

کے مکمل نوٹس آسان اردو زبان میں حاصل کریں 

 

رابطہ نمبر 

0300 6471170





Post a Comment

0 Comments