پوتا پوتی نان و نفقہ:پوتا پوتی غریب ہیں تو کیا وہ دادا سے خرچہ لینے کے لیے کیس کرسکتے ہیں؟
سب سے پہلے یہ جان لیں پاکستانی قانون کے مطابق بیوی اور بچوں کے نان و نفقہ یعنی انکی پرورش انکا اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ہے
اک مرد پاپند ہے وہ اپنے بیوی بچوں کے اخراجات ضروریات زندگی کو پورا کرے
اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو بیوی فیملی کورٹ میں کیس کر کے شوہر سے خرچہ لی سکتی ہے
اسی طرح اگر بیوی اور شوہر میں علیحدگی ہوچکی ہے یعنی طلاق ہوگیا ہے
بچے والدہ کے پاس ہیں پھر بھی شوہر پاپند ہے وہ بچوں کی ضروریات زندگی کو پورا کرے
لڑکا ہے تو 18 سال کی عمر تک
اور اگر لڑکی ہے تو جب تک اسکی شادی نہیں ہوجاتی والد خرچہ دینے کا پابند ہے
یہ تو تھا جنرل قانون جس کے تحت ذمہ داری والد پر ہے کہ وہ نان و نفقہ ادا کرے
لیکن چند صورتوں میں یہ زمہ داری والدہ پر ہوگی یا دادا پر ہوگی کہ وہ خرچہ دے بچوں کو.
کن صورتوں میں والد/مرد پر ذمہ داری نہیں ہوگی نان و نفقہ کی؟
اگر بچوں کا والد فوت ہوگیا
یا وہ پاگل ہوگیا یا معذور ہوگیا یا بیمار ہوگیا جسکی وجہ سے وہ کما نہیں سکتا تو اس صورت میں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری عورت یعنی بچوں کی والدہ پر ہوگی کے وہ انکی کفالت کرے.
کن صورتوں میں دادا پر ذمہ داری ہوگی پوتا پوتی کی؟
جیسے اوپر بیان ہوا اگر بچوں کا والد کمانے کے قابل نہیں ہے اور والدہ بھی کفالت نہیں کرسکتی تو اس صورت میں بچوں کا دادا خرچہ دینے کا پاپند ہے.
PLD 2016 622
میں یہ اصول وضع کیا گیا
یاد رہے اگر والد والدہ موجود ہیں وہ کمانے کے قابل ہیں تو پھر دادا پر ذمہ داری عائد نہیں ہوگی کفالت کی
اس کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کے دادا کی حالت معاشی طور پر اچھی ہو مطلب اس کے ذرائع آمدن ٹھیک ہوں
اور اس کے ساتھ جسمانی طور پر بھی ٹھیک ہو
ایسا نہیں ہے دادا بستر مرگ پر ہے اور عدالت دادا پر کفالت کی ذمہ داری ڈال دے
عدالت دادا کی معاشی و جسمانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی
اگر دادا جسمانی معاشی طور پر ٹھیک ہے اور پوتا پوتی کی کفالت کے لیے والدین موجود نہیں ہیں یا موجود ہیں تو اس قابل نہیں ہیں کے بچوں کی پرورش کر سکیں تو عدالت دادا کو پاپند کر دے گی کے وہ نابالغان پوتا پوتی کی کفالت کرے
لا گیٹ نوٹس ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سلیبس کے مطابق تمام سبجیکٹس کے حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں
0300 6471170




Post a Comment
0 Comments