کیا بیوی اپنے اشتہاری ملزم شوہر کو پناہ دے سکتی ہے؟
کسی ملزم کو پناہ دینا Harbour
کہلاتا ہے. جو کے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 212 کے تحت جرم ہے
پناہ دینا سے کیا مراد ہے؟
پناہ دینے سے مراد کسی ملزم کو جس نے کوئی جرم کیا ہے اس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں مثلاً پولیس وغیرہ سے بچانا گرفتاری سے بچانے Harbour
کہلاتا ہے
اس کی شرط یہ ہے کہ پناہ دینے والے کو معلوم ہوکے وہ جس کو پناہ دے رہا ہے وہ ملزم ہے اور وہ چھپتا پھر رہا گرفتاری کے ڈر سے تو اس پناہ کو
Harbour
کہا جائے گا
مثال کے طور پر
الف ڈکیتی کر کے ب کے گھر آگیا ب نے اس کو رات رہنے کے لئے جگہ دی کھانا دیا یہ تمام عمل ملزم کو پناہ دینے کے مترادف ہے جبکہ ب کو معلوم ہو وہ ڈکیتی کر کے آیا ہے
یہ عمل تعزیرات پاکستان کے تحت جرم ہے
ملزم کو پناہ دینے کی سزا کتنی ہے؟
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 212 کے تحت اگر ملزم نے ایسا جرم کیا ہے جس کی سزا موت ہے یا عمر قید تو ایسے ملزم کو پناہ دینے والے شخص کو 5 سال قید اور جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے
اسی طرح تعزیرات پاکستان کی دفعہ
216A
کے مطابق اگر کوئی شخص کسی
Robbery
یا ڈکیتی کے ملزم کو پناہ دیتا ہے جبکہ اس شخص کو معلوم ہو یہ ملزمان رابری یا ڈکیتی کر کے آئے ہیں یا رابری یا ڈکیتی کرنے والے ہیں
تب اس صورت میں پناہ دینے والے شخص کو 7 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے
مثال کے طور پر
دو لوگ الف کے گھر آتے ہیں انکے پاس اسلحہ اور دیگر سامان موجود ہے جس سے وہ کسی گاڑی کو لوٹنے والے ہیں یہ بات الف کو معلوم ہے کہ یہ لوگ رابری کرنے والے ہیں لیکن وہ پھر بھی ان کو رہنے کے لیے جگہ دیتا ہے کھانا کھلاتا ہے اور پولیس کو اطلاع بھی نہیں دیتا تو اس صورت میں اگر یہ ملزمان رابری کرنے سے پہلے گرفتار ہوگئے تب بھی ان ملزمان کے ساتھ الف کو بھی سزا ہوگی
کیا بیوی اپنے شوہر کو پناہ دیتی ہے تو کیا یہ جرم ہوگا؟
جی نہیں
تعزیرات پاکستان کے مطابق اگر بیوی اپنے ملزم شوہر یا شوہر اپنی ملزم بیوی کو پناہ دیتا ہے تو یہ جرم نہیں ہوگا.
کیونکہ میاں بیوی کا تعلق ایسا ہے جس کی بنا پر ان کو رعایت دی گئ ہے
اسی طرح اگر کسی کو معلوم نہ تھا کہ جس شخص کو وہ پناہ دے رہا ہے وہ ملزم ہے یا مفرور اشتہاری ہے تو اس صورت میں بھی اس پناہ دینے والے شخص کو سزا نہ ہوگی
مزید کسی قانون کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتاسکتے ہیں
لا گیٹ سلیبس کے مطابق تمام کتابوں کے نوٹس حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں




Post a Comment
0 Comments