کیا ویڈیو تصاویر کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے؟

شواہد کی اقسام؟ 

شواہد یا ثبوت کی دو بڑی اقسام ہیں

دستاویزی شہادت

جس کو

 Documentary evidence

 کہتے

اس میں ڈاکومنٹس تحریری معاہدے چیک رسید یا کوئی بھی چیز ہو جس پر کچھ تحریر ہو اس کو دستاویزی شہادت کہتے ہیں

مثال کے طور پر الف اور ب کے درمیان اسٹام پیپر پر معاہدہ ہوا مکان خریدنے کا اب اگر کوئی پارٹی معاہدے پر عمل نہیں کرتی تو اس اسٹام پیپر کو جس پر تحریر لکھی ہوئی ہے اس کو بطور شہادت عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے یہ اسٹام پیپر دستاویزی ثبوت ہے


دوسری قسم زبانی یا 

 Oral evidence

کہلاتی ہے

یعنی زبانی گواہی دینا عدالت میں 

مثال کے طور پر کوئی گواہی دے میں نے یہ جرم ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا





ماڈرن ڈیوائس بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنا

جیسا کے آپ کو معلوم ہے آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے تو اس جدت کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانون شہادت آڈر 1984 کے آرٹیکل 164 میں یہ بتایا گیا ہے کہ

ماڈرن ڈیوائسز جیسا کے موبائل کیمرہ میسج ای میل ڈی این اے ٹیسٹ وغیرہ کو بھی بطور ثبوت عدالت میں پیش کر سکتے ہیں

مثال کے طور پر

کسی نے آپکو موبائل پر کال کر کے یا میسج کرکے دھمکی دی تو آپ کال ریکارڈنگ کو یا میسج کو عدالت میں بطور شواہد پیش کرسکتے ہیں. اس کے علاوہ اپ کو یاد ہوگا مشہور کیس زینب قتل کیس جس میں ملزم عمران کو سزائے موت  ویڈیو میں نشاندہی ہونے اور ڈی این اے  کے ذریعے شناخت ہونے کی بعد دی گئی 

حالانکہ کے واقعہ کا کوئی عینی گواہ نہ تھا لیکن پھر بھی عدالت نے ماڈرن ڈیوائس یعنی سی سی ٹی وی کیمرہ اور ڈی این اے کی بنیاد پر سزا موت دی 

پولیس یا دیگر کوئی سرکاری ملازم یا کوئی بھی شخص کوئی غیر قانونی کام  کر رہا ہے تو اس کی ویڈیو بنائی جاسکتی ہے؟

جی بنائی جاسکتی ہے

جب کبھی ایسی صورتحال پیش آئے جس میں کوئی شخص جرم کا ارتکاب کر رہا ہو تو آپ اپنے موبائل سے یا ویڈیو بنا سکتے ہیں یا وائس ریکارڈنگ کرسکتے ہیں. اور اس ویڈیو یا وائس ریکارڈنگ کو آپ بطورِ ثبوت عدالت پیش کر سکتے ہیں.

اس شخص کے خلاف.

ویڈیو وائس ریکارڈنگ کے علاوہ اس شخص کے میسج ای میل کو وغیرہ کو بھی بطور ثبوت عدالت میں پیش کرسکتے ہیں

کسی نے جعلی ویڈیو تصاویر بنا کر کسی کو بدنام کیا یا عدالت میں پیش کی تو کیا کیا جائے؟ 

جہاں اس ٹیکنالوجی نے فائدہ پہنچایا ہے وہاں جرائم پیشہ لوگ اس کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں. 

کئ لوگ جعلی تصاویر ویڈیو بنا کر لوگوں کو بدنام کرتے ہیں یا ان کے خلاف ایف آئی آر تک کروا دیتے ہیں 

اگر کوئی شخص آپ کے خلاف جعلی ویڈیو یا آڈیو پیش کرتا ہے آپکے خلاف تو آپ عدالت میں ویڈیو آڈیو یا میسج وغیرہ کا فرانزک کروانے کی درخواست دے سکتے ہیں.

فرانزک سے مراد ماڈرن طریقوں سے ویڈیو کی جانچ پڑتال کرنا جس پتہ لگ جائے گا ویڈیو جعلی ہے یا سچی

اسی طرح کوئی شخص آپکو بدنام کر رہا ہے جعلی ویڈیو بنا کر یا تصویر بنا کر تو آپ اس  شخص کے خلاف مجموعہ تعزیرات کے تحت ایف آئی آر کروا سکتے ہیں


مزید کسی قانون کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتاسکتے ہیں

لا گیٹ سلیبس کے مطابق تمام کتابوں کے نوٹس حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں 

0300 6471170





Post a Comment

0 Comments